گندم کی قیمت سرکاری ریٹ اور منڈی کے نرخ میں بڑا فرق، کسان پریشان
حکومتِ پنجاب کی جانب سے سال 2026 کے لیے گندم کی امدادی قیمت مقرر کر دی گئی ہے، تاہم زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔ جنوبی پنجاب، خاص طور پر لیہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں کسانوں کو اپنی فصل کی مناسب قیمت نہیں مل رہی جس کی وجہ سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
سرکاری قیمت کیا مقرر کی گئی؟
حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی ہے تاکہ کسانوں کو ریلیف دیا جا سکے اور وہ اپنی فصل کا بہتر معاوضہ حاصل کر سکیں۔
منڈی میں اصل قیمت کیا ہے؟
لیہ اور دیگر علاقوں کی گلہ منڈیوں میں گندم کی قیمت سرکاری ریٹ سے کافی کم دیکھی جا رہی ہے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق گندم کا ریٹ تقریباً 2700 سے 3200 روپے فی من کے درمیان ہے۔
کسان کیوں پریشان ہیں؟
کسانوں کا کہنا ہے کہ کھاد، بیج، پانی اور دیگر اخراجات میں بے حد اضافہ ہو چکا ہے۔ ایسے میں جب گندم کی قیمت کم مل رہی ہو تو انہیں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
قیمت میں فرق کی بڑی وجوہات
- حکومتی خریداری مراکز کی کمی
- پرائیویٹ خریداروں کا کم ریٹ دینا
- سپلائی زیادہ اور ڈیمانڈ کم ہونا
- ذخیرہ کرنے کی سہولیات کا فقدان
کسانوں کے لیے مشورہ
ماہرین کے مطابق اگر کسان کے پاس ذخیرہ کرنے کی سہولت موجود ہے تو وہ کچھ وقت انتظار کر سکتے ہیں کیونکہ آنے والے دنوں میں قیمت میں بہتری کا امکان ہوتا ہے۔ تاہم فوری ضرورت کی صورت میں بہتر ریٹ والی منڈی کا انتخاب کرنا ضروری ہے۔
نتیجہ
گندم کی سرکاری قیمت اور منڈی کے نرخ میں واضح فرق کسانوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس صورتحال پر فوری توجہ دے تاکہ کسانوں کو نقصان سے بچایا جا سکے اور زرعی معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے۔