بڑھانے پر زیادہ، کم کرنے پر تھوڑا — عوام کب تک پسے گی؟
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا مسئلہ اب صرف ایک معاشی بحث نہیں رہا بلکہ یہ عام آدمی کی روزمرہ زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ جب بھی تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو حکومت بغیر کسی تاخیر کے بڑے اضافے کا اعلان کر دیتی ہے، لیکن جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو عوام کو صرف معمولی سا ریلیف دیا جاتا ہے۔
مہنگائی: صرف اوپر جانے والا نظام
تیل کی قیمت میں اضافہ ہوتے ہی اس کا اثر فوراً ہر چیز پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے، سبزی، آٹا اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ لیکن جب تیل سستا ہوتا ہے تو یہ قیمتیں واپس کم نہیں ہوتیں۔ اس طرح مہنگائی ایک ایسا نظام بن چکی ہے جو صرف اوپر جاتی ہے، نیچے نہیں آتی۔
کسان: ریڑھ کی ہڈی مگر سب سے کمزور
کسان کو ملک کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹیوب ویل، ٹریکٹر اور فصلوں کی کٹائی سب مہنگی ہو جاتی ہے۔ کسان کی لاگت بڑھتی جاتی ہے مگر اس کی آمدن میں اضافہ نہیں ہوتا۔ جب قیمتیں کم بھی ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ کسان تک نہیں پہنچتا۔
عوام کا بڑھتا ہوا بوجھ
عام شہری پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ آمدن کم اور اخراجات زیادہ ہو چکے ہیں۔ پٹرول مہنگا ہو تو زندگی مشکل، اور سستا ہو تو بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ باقی چیزیں سستی نہیں ہوتیں۔
اصل مسئلہ کہاں ہے؟
یہ مسئلہ صرف عالمی منڈی کا نہیں بلکہ مقامی پالیسیوں کا بھی ہے۔ حکومت قیمتیں بڑھانے میں تیزی دکھاتی ہے، مگر کم کرنے میں احتیاط سے کام لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل پاتا۔
آخر عوام کا کیا بنے گا؟
اگر یہی صورتحال جاری رہی تو عوام اور کسان دونوں مزید مشکلات کا شکار ہوں گے۔ غربت بڑھے گی اور معیشت کمزور ہوتی جائے گی۔
جب تک قیمتوں میں انصاف نہیں ہوگا، تب تک سوال یہی رہے گا: بڑھانے پر زیادہ، اور کم کرنے پر صرف چند روپے کیوں؟