تھل نیوز

جنگ رک گئی مگر عوام کیوں رو رہی ہے؟ مہنگائی نے کمر توڑ دی

جنگ رک گئی مگر مہنگائی کیوں برقرار؟ عوام کے سوالات اور اصل حقیقت

جنگ رک گئی مگر مہنگائی کیوں برقرار؟ عوام کے سوالات اور اصل حقیقت

حالیہ دنوں میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، جسے سراہا بھی جا رہا ہے۔ لیکن دوسری طرف عام عوام ایک مختلف سوال اٹھا رہی ہے: اگر واقعی جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے تو مہنگائی کیوں کم نہیں ہوئی؟

یہ سوال نہ صرف جائز ہے بلکہ موجودہ حالات میں ہر شہری کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا رکھا ہے۔ روزمرہ کی اشیاء، پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث متوسط اور غریب طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان باقاعدہ جنگ چھڑ جاتی تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے۔ خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں خطرناک اضافہ ہوتا کیونکہ ایران دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ جنگ کی صورت میں سپلائی متاثر ہوتی اور عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان کو چھونے لگتیں۔

پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو پہلے ہی معاشی مسائل کا شکار ہے، ایسی صورتحال تباہ کن ثابت ہو سکتی تھی۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوتا، جس کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعت پر پڑتا۔ نتیجتاً مہنگائی مزید بڑھتی اور عام آدمی کی مشکلات کئی گنا بڑھ جاتیں۔

یہی وہ پہلو ہے جہاں جنگ رکوانا ایک بڑی کامیابی بن جاتی ہے۔ یعنی ایک ممکنہ بڑی تباہی کو روک لیا گیا۔ لیکن یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بڑے خطرے کا ٹل جانا اور فوری طور پر حالات کا بہتر ہو جانا، دونوں الگ چیزیں ہیں۔

پاکستان میں مہنگائی کی بنیادی وجوہات زیادہ تر اندرونی ہیں۔ ان میں روپے کی قدر میں کمی، حکومتی ٹیکسز، پٹرولیم لیوی، بجلی کے نرخ، اور ذخیرہ اندوزی جیسے عوامل شامل ہیں۔ جب تک ان مسائل پر قابو نہیں پایا جاتا، تب تک عالمی سطح پر مثبت تبدیلیاں بھی عوام کو فوری ریلیف نہیں دے سکتیں۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان عالمی منڈی سے تیل خریدتا ہے، اور اس کی قیمت ڈالر میں ادا کی جاتی ہے۔ اگر ڈالر مہنگا ہو تو عالمی سطح پر قیمت کم ہونے کے باوجود مقامی سطح پر ریلیف نہیں ملتا۔ اس وقت بھی روپے کی کمزوری ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔

عوام کی شکایت یہ بھی ہے کہ جب عالمی سطح پر قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا بوجھ فوراً عوام پر ڈال دیا جاتا ہے، لیکن جب حالات بہتر ہوتے ہیں تو اس کا فائدہ عوام تک پہنچنے میں تاخیر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔

حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ نہ صرف عالمی سطح پر اپنی سفارتی کامیابیوں کو جاری رکھے بلکہ اندرونی طور پر بھی ایسے اقدامات کرے جن سے عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ ٹیکسز میں کمی، پٹرول کی قیمتوں میں کمی، اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی جیسے اقدامات فوری طور پر کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت سنجیدگی سے معاشی اصلاحات پر کام کرے تو مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پالیسیوں میں تسلسل ہو اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ جنگ رکوانا یقیناً ایک مثبت قدم ہے، لیکن اصل کامیابی تب ہوگی جب اس کا فائدہ عام آدمی تک پہنچے۔ جب تک عوام کو مہنگائی سے نجات نہیں ملتی، تب تک ایسی کامیابیاں ادھوری محسوس ہوتی رہیں گی۔

آج کا سب سے بڑا سوال یہی ہے: کیا حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے فوری اقدامات کرے گی، یا مہنگائی کا یہ بوجھ اسی طرح جاری رہے گا؟ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top