تھل نیوز - ہیڈر

گل پلازہ کی آگ: دھوئیں، چیخوں اور لاشوں میں لپٹا کراچی کا دل دہلا دینے والا واقعہ

 

 

 

گل پلازہ انسیڈنٹ – کراچی میں بھیانک آگ (17–18 جنوری 2026)

17 جنوری 2026 کی رات کراچی کے دل میں واقع مشہور تجارتی مرکز گل پلازہ میں ایک طاقتور آگ بھڑک اٹھی جس نے چند گھنٹوں میں پورا بازار اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ آگ نہ صرف انسانی جانوں کو نگلتی گئی بلکہ ہزاروں دکانداروں اور ان کے خاندانوں کے مستقبل کو بھی تاریک کر گئی۔ یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ کے چند سب سے خطرناک تجارتی آگ کے حادثات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ 1

1. وقوعہ کہاں اور کب ہوا؟

واقعہ کراچی، سندھ، پاکستان کے مرکزی کاروباری علاقے MA جناح روڈ پر واقع چار منزلہ تجارتی مرکز گل پلازہ میں ہوا۔ یہ بازار عام طور پر شام کے وقت بند ہو جاتا ہے، مگر اس رات آگ رات تقریباً 10:15 بجے کے قریب شروع ہو گئی۔ 2

2. آگ کیسے پھیلی؟ وجہ کیا تھی؟

ابتدائی تفتیش کے مطابق آگ ممکنہ طور پر ایک دکان میں موجود الیکٹریکل شارٹ سرکٹ یا خراب وائرنگ کی وجہ سے لگی، خاص طور پر ایک دکان میں جہاں آرائشی اور خطرناک مواد رکھا ہوا تھا۔ چونکہ یہ بازار پرانی عمارت میں تھا اور بہت ساری اشیاء جیسے کپڑے، برتن، پلاسٹک، اور دیگر آسانی سے جلنے والے سامان سے بھرا ہوا تھا، آگ بہت تیزی سے پورے پلازہ میں پھیل گئی۔ 3

پلازہ کی انتظامیہ نے بھی اعتراف کیا کہ عمارت میں مناسب فائر سیفٹی لائٹس یا ایمرجنسی ایگزٹ سگنلز نہ ہونے کے باعث لوگ دھواں اور اندھیرے میں پھنس گئے۔ 4

3. ریسکیو آپریشن اور ابتدائی ردعمل

پولیس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچیں، مگر ریسکیو آپریشن کئی گھنٹوں تک جاری رہا کیونکہ آگ بہت شدید اور دھواں گھنا تھا۔ فائر فائٹرز نے رات بھر محنت سے آگ بجھانے کی کوشش کی، لیکن ساختی نقصان، دھواں اور پھنسے ہوئے لوگوں تک رسائی کی کمی نے انہیں مشکل میں رکھا۔ 5

ریسکیو 1122، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، پاکستان نیوی اور دیگر ایمرجنسی سروسز نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔ تقریباً 20–30 فائر ٹینڈرز، بوزرز، سونارکلز اور درجنوں ایمبولینسیں استعمال ہوئیں۔ 6

4. انسانی نقصان اور تعدادِ ہلاکتیں

ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم 30 سے زیادہ لاشیں پہلے ہی ریسکیو ٹیموں نے نکالی تھیں، اور بعد میں کئی مزید لاشیں اور انسانی بچے ہوئے جسمانی اعضاء بھی مل چکے ہیں، جس سے مجموعی ہلاکتیں بڑھ کر اندازاً 50–60 کے قریب پہنچ گئیں۔ تلاش اور شناخت کا عمل جاری تھا جب تک مختلف دفعات میں لاشیں نکالی گئیں۔ 7

سرکاری اعداد و شمار میں دراصل بہت سے افراد لاپتہ بھی تھے جن میں سے بہت سارے تاحال تلاش کیے جا رہے ہیں۔ 8

5. متاثرین کے سامنے چیلنجز

آگ کے دوران زیادہ تر لوگوں کو سانس لینے میں دشواری ہوئی کیونکہ پورے پلازے میں دھواں بھر گیا تھا، ایمرجنسی لائٹس نہ ہونے کی وجہ سے لوگ سہی راستہ بھی نہیں دیکھ سکے۔ صرف چند ایگزٹ راستے کھلے تھے جب کہ دیگر راستے لاکڈ تھے، جس نے کئی افراد کو اندر پھنسنے پر مجبور کر دیا۔ 9

بچاؤ ٹیموں نے حتیٰ کہ کھڑکیوں کو توڑ کر، دیواریں کاٹ کر، اور اونچے حصوں میں داخل ہو کر بھی لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کی، لیکن عمارت کا بناوٹ اور دھواں اس عمل میں رکاوٹ بنے رہے۔ 10

6. حکومت اور سیاسی ذمہ داری

اس واقعے کے بعد سندھ حکومت، خاص طور پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی، جبکہ قومی اور صوبائی سطح پر نقد امداد اور معاوضے کا اعلان بھی کیا گیا۔ 11

سیاسی جماعتوں مثلاً MQM-P نے اس واقعہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایک جامع عدالتی تحقیق کی جائے تاکہ اس ظالمانہ حادثے کی اصل ذمہ داروں کا تعین ہو سکے، خاص طور پر بجلی کے معائنہ، عمارت کے اجازت ناموں، اور فائر سیفٹی کے قوانین کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے۔ 12

7. اقتصادی اور تجارتی نقصان

گل پلازہ میں تقریباً 1,200 دکانیں تھیں جو مختلف اشیاء جیسے کپڑے، برتن، گھریلو سامان، الیکٹرانکس، اور دیگر تجارتی مال کے لیے معروف تھیں۔ ان سب اشیاء اور دکانوں کا مکمل نقصان ہوا، جس کے نتیجے میں ہزاروں دکاندار اور ملازمین براہِ راست متاثر ہوئے۔ 13

تاجروں کے نمائندوں نے اندازہ لگایا کہ صاف نقصان کروڑوں روپے تک پہنچ سکتا ہے، اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ہر خاندان اور تاجر کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔ 14

8. تفتیش اور سیکھنے کے نکات

ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور فائر بریگیڈ نے اس واقعے کے بعد ابتدائی تحقیقات شروع کر دی ہیں جس کا مقصد آگ کے اصل سبب، عمارت کی حفاظتی کمیوں، اور ممکنہ لاپرواہیوں کا پتہ لگانا ہے۔ 15

یہ واقعہ پاکستان میں تجارتی عمارتوں کے حوالے سے فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی، ایمرجنسی پلاننگ کی کمی، اور عوامی آگاہی کی کمی جیسے اہم مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے سخت عمارت کوڈز اور چیکز پر عملدرآمد کے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ 16

9. عوامی اور معاشرتی ردعمل

سوشل میڈیا، فورمز، اور عوامی حلقوں میں لوگ اس واقعے پر اپنی رائے دے رہے ہیں—کچھ نے حکومت اور انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ کچھ نے امدادی کوششوں میں حصہ بھی لیا۔ 17

دکاندار اور عام شہری اپنی کہانیوں، دعاوں، اور آپس کے تعاون سے متاثرین کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ اس المناک واقعہ میں انسانی ہمدردی کی ایک روشن مثال ہے۔ 18

نتیجہ

گل پلازہ انسیڈنٹ نہ صرف ایک المناک واقعہ ہے بلکہ ایک سیکھ بھی ہے۔ اس واقعے نے ہمیں یاد دلایا کہ فائر سیفٹی، ایمرجنسی پلاننگ، اور حفاظتی قوانین کی مکمل پابندی نہ صرف قانونی ضرورت ہے بلکہ انسانی جانوں کو بچانے کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، ہمدردی اور یکجہتی کی بھی مثالیں سامنے آئیں، جس سے معاشرے کی طاقت اور انسانیت کی روشنی بھی نظر آتی ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *