دعا کی قبولیت کے راز
دعا وہ نعمت ہے جو بندے کو براہِ راست اپنے رب سے جوڑتی ہے۔ یہ صرف الفاظ نہیں، بلکہ دل کی وہ صدا ہے جو عرشِ الٰہی تک پہنچتی ہے۔ انسان جب مایوس، غمگین یا بے بس ہوتا ہے، تب یہی دعا اس کے لیے امید کا دروازہ کھولتی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے:
“اور تمہارا رب فرماتا ہے کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔”
(سورۃ المؤمن: 60)
دعا کے قبول ہونے کی شرائط
دعا قبول ہونے کے کچھ آداب اور راز ہیں جو ہمیں سیکھنے چاہئیں تاکہ ہماری دعائیں جلد قبول ہوں۔ آئیے ان رازوں پر نظر ڈالتے ہیں:
- 1. خلوص نیت: دعا ہمیشہ دل کی گہرائی سے مانگی جائے، دکھاوے یا رسم کے طور پر نہیں۔
- 2. حلال رزق: جو شخص حرام کمائی سے زندگی گزارے، اس کی دعا دیر سے قبول ہوتی ہے۔
- 3. یقین کامل: دل میں یہ پختہ یقین رکھو کہ اللہ ضرور سن رہا ہے اور جواب دے گا۔
- 4. صبر اور مستقل مزاجی: کبھی کبھی دعا فوراً قبول نہیں ہوتی، بلکہ وقت کے ساتھ بہتر انداز میں پوری کی جاتی ہے۔
دعا کے بہترین اوقات
دعا ہر وقت قبول ہو سکتی ہے، مگر کچھ خاص لمحات ایسے ہیں جب اللہ کے قریب ترین ہونے کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ان اوقات میں دعا ضرور مانگنی چاہیے:
- تہجد کے وقت
- اذان اور اقامت کے درمیان
- جمعہ کے دن مغرب سے پہلے
- سجدے کی حالت میں
- رمضان المبارک کے آخری عشرے میں
“جب تم اللہ سے مانگو، تو پورے دل سے مانگو۔ وہ تمہیں وہاں سے عطا کرے گا جہاں سے تمہیں گمان بھی نہیں ہوگا۔”
دعا کی تاخیر میں بھی بھلائی
کبھی ہم جلدی میں دعا مانگتے ہیں اور فوراً نتیجہ چاہتے ہیں، مگر یاد رکھو — اللہ تعالیٰ ہر دعا سنتا ہے، لیکن وہ جانتا ہے کہ کس وقت اور کس انداز میں تمہارے لیے بہتر ہے۔ بعض اوقات دعا فوراً پوری نہیں ہوتی تاکہ بندہ اپنے رب کے قریب تر ہو جائے۔
نتیجہ
دعا ایک تعلق ہے بندے اور رب کے درمیان۔ اسے کبھی کمزور نہ پڑنے دو۔ جو بندہ اپنے رب سے مانگنا نہیں چھوڑتا، اللہ اس کے لیے ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔
🌿 “دعا بندے کی طاقت ہے، اور اللہ کی رحمت اس کی قبولیت کا وعدہ۔” 🌿