تھل نیوز - ہیڈر

زراعت: معیشت کی ریڑھ کی ہڈی

زراعت: معیشت کی ریڑھ کی ہڈی

زراعت: معیشت کی ریڑھ کی ہڈی

زراعت کسی بھی ملک کی معیشت میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف خوراک کی فراہمی کا ذریعہ ہے بلکہ روزگار، برآمدات اور صنعتی ترقی کی بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔ پاکستان جیسے زرعی ملک میں زراعت کو “معیشت کی ریڑھ کی ہڈی” کہا جاتا ہے کیونکہ ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اسی شعبے سے وابستہ ہے۔

پاکستان کی زرخیز زمین، چار موسم اور وافر پانی کی دستیابی زراعت کے لیے موزوں ماحول فراہم کرتے ہیں۔ گندم، چاول، کپاس، گنا اور مکئی جیسی فصلیں نہ صرف ملکی ضرورت پوری کرتی ہیں بلکہ بین الاقوامی منڈیوں میں بھی برآمد ہو کر زرمبادلہ کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اسی طرح پھل، سبزیاں اور دودھ کی مصنوعات دیہی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔

تاہم زراعت کے شعبے کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، جن میں پانی کی قلت، جدید ٹیکنالوجی کی کمی، ماحولیاتی تبدیلیاں اور حکومتی عدم توجہی شامل ہیں۔ اگر کسانوں کو جدید آلات، معیاری بیج، کھاد اور مناسب نرخوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے تو زراعت میں نمایاں ترقی ممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر پاکستان اپنے زرعی وسائل کا مؤثر استعمال کرے، ریسرچ اور ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری بڑھائے اور کسان دوست پالیسیاں اپنائے تو نہ صرف غذائی خودکفالت حاصل کر سکتا ہے بلکہ عالمی منڈی میں بھی زرعی طاقت بن کر ابھر سکتا ہے۔ زراعت کا فروغ دراصل قومی ترقی، معاشی استحکام اور عوامی خوشحالی کی ضمانت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *